انقلاب اسلامی کے بعد

پہلوی دور کے آخر میں دنیا میں سائنسی پیشرفت میں ایران کا حصہ ایران کی آبادی اور ایران کی یونیورسٹیوں کے تناسب کے لحاظ سے نہیں تھا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ دنیا کی 1% آبادی والے ملک کو منطقی طور پر دنیا کے مضامین کا 1% پیدا کرنا چاہیے۔ جبکہ 1979 عیسوی (1357 ہجری) میں عالمی سائنس کی پیداوار(پیشرفت) میں ایران کا حصہ تقریباً دسواں فیصد تھا۔ لیکن انقلاب اسلامی کی فتح کے بعد 70 کی دہائی کے وسط تک تعلیم پر مبنی مرحلے ختم ہو گئےاور تحقیق اور سائنس کی پیداوار(پیشرفت) میں ملک کی سائنسی قیادت شروع ہو گئی.
ایران بھی سائنسی و علمی ترقی کے چار مراحل سے گزرتا ہے:

پہلا مرحلہ: تعلیم پر مبنی، دنیا کی تمام یونیورسٹیوں کا پہلا سائنسی مرحلہ ہے۔ اس سے صرف انفراسٹرکچر بنتا ہے اور طلبہ کو بھرتی اور تربیت دی جاتی ہے۔
دوسرا مرحلہ: تعلیم پر مبنی مرحلے کے بعد، تحقیق پر مبنی مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر، طلباء سیکھے گئے اسباق کو استعمال کرتے ہوئے تحقیق کرتے ہیں اور مضامین تیار کرتے ہیں۔
تیسرا مرحلہ: اگلے مرحلے میں تحقیق پر مبنی یونیورسٹی کو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس وضاحت کے ساتھ کہ مضامین کو خالصتاً سائنسی پہلو سے آپریشنل مرحلے اور ٹیکنالوجی کی پیداوار تک فروغ دیا جاتا ہے۔
چوتھا مرحلہ: اس مرحلے میں یونیورسٹیوں میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجی معیشت کو متاثر کرتی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قومی دولت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
تحقیق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے گزشتہ دو دہائیوں میں ملک کی سائنسی تحریک کا ڈرائیونگ انجن بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں سائنسی پیداوار کے میدان میں سب سے تیز رفتار ترقی "نیو سائنٹسٹ" سائنسی ڈیٹا بیس کی رپورٹ کے مطابق 2010 میں ایران نے سائنسی پیداوار کے میدان میں دنیا کے تمام ممالک میں سب سے تیز رفتار ترقی کی۔ دنیا اس رپورٹ کے مطابق Clarivit Analytics یا ISI کے مطابق ایران کی سائنسی ترقی کی شرح عالمی اوسط سے 11 گنا زیادہ تھی۔
